حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ شہید امام خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) نے اپنے ایک درس خارج فقہ کے آغاز میں اخلاقی حدیث کی شرح بیان فرمائی۔
اس اخلاقی حدیث کا موضوع "سب سے زیادہ حازم (دور اندیش)، سب سے زیادہ صالح اور سب سے بہترین لوگ" ہیں۔ ذیل میں اسے حوزہ نیوز کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمدلله ربّ العالمین
عَن النَّبی صلّی الله علیه و آله و سلّم وَ أَحزَمُ النّاس أَکظَمُهُم لِلغَیظ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے:
"وَ أَحزَمُ النّاس أَکظَمُهُم لِلغَیظ"
حزم کے معنی ہیں دور اندیشی، احتیاط اور زندگی کے تمام پہلوؤں کا خیال رکھنا۔ حازم وہ شخص ہے جو ہر قدم اٹھاتے وقت اور ہر حرکت کرتے وقت اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ دور اندیش وہ شخص ہے جو اپنے غصے کو پی جاتا ہے۔
یہ شخص حازم کیوں ہے؟ کیونکہ غصہ انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ انسان غصے کی حالت میں عقل کے قبضے سے باہر ہو جاتا ہے۔ جب انسان عقل کے قبضے سے باہر ہو جاتا ہے تو اس سے بے سروپا کام، غلط امور، بے جا باتیں، غلط فیصلے سرزد ہوتے ہیں۔ پس اگر انسان حزم کا خیال رکھنا چاہتا ہے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ چاہتا ہے کہ خطا اور غلطی نہ کرے تو اس کے اہم طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب غصہ آئے تو "کظمِ غیظ" کرے یعنی اس غصے کو اپنی بات، اپنے عمل، اپنے رویے، اپنے اقدام پر اثر انداز نہ ہونے دے۔ یہ بہت بڑا سبق ہے۔ ہم غصہ ہوتے ہیں تو منہ سے بے سروپا بات نکل جاتی ہے۔
غصہ ہونے کی مختلف اقسام ہیں۔ بعض لوگوں کو عارضی غصہ آتا ہے۔ جیسا کہ نوجوان کہتے ہیں کہ ماحول کا اثر ہوتا ہے۔ کسی ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں لوگوں کا کسی چیز کے بارے میں ایک خاص زاویہ ہوتا ہے تو یہ شخص بھی ماحول کا شکار ہو جاتا ہے اور غصہ ہو جاتا ہے حالانکہ اگر وہ تنہا ہوتا تو شاید غصہ بھی نہ ہوتا۔ لیکن اس ماحول میں غصہ ہو جاتا ہے اور جب غصہ ہوتا ہے تو جو کچھ منہ پر آتا ہے کہہ دیتا ہے۔ بہت سی غلطیاں، بہت سی خطائیں۔
"وَ أَصلَحُ النّاس أَصلَحُهُم لِلنّاس"
سب سے زیادہ صالح وہ شخص ہے جو دوسروں سے زیادہ لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ان شاء اللہ نیک بندوں میں شامل ہوں۔ اگر تم نیک بندوں میں سے ہونا چاہتے ہو تو جہاں تک تم سے ہو سکے لوگوں کی بھلائی کے لیے عمل کرو، کام کرو، اقدام کرو۔
"وَ خَیرُ النّاس مَن إِنتَفَعَ بِهِ النّاس"
یہاں "خیر" بہترین کے معنی میں ہے یعنی سب سے بہترین وہ شخص ہے جس سے دوسرے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ لوگ اپنی دنیوی اور اخروی مشکلات دور کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع کریں اور وہ لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ ایسے شخص کو سب سے بہترین کہا جاتا ہے۔









آپ کا تبصرہ